حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محرم الحرام کی آمد سے قبل متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) کی شیعہ سنی رابطہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے صدر دفتر میں منعقد ہوا، جس میں مختلف مذہبی تنظیموں سے وابستہ ممتاز علماء، دینی رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت معروف عالم دین آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے کی۔
اجلاس میں مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلم اُمہ کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں اتحادِ امت، باہمی احترام، بین المسالک ہم آہنگی اور مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان تعاون، افہام و تفہیم اور مشترکہ کاوشیں امن، استحکام اور سماجی یکجہتی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔
شرکاء نے محرم الحرام کے تقدس کو اجاگر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے یا بھائی چارے کے ماحول کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اجلاس میں گزشتہ برس محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض مواد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور دینی تنظیموں، مقررین اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال اور عوامی بیانات میں ذمہ داری، احتیاط اور اعتدال کا مظاہرہ کریں۔
اجلاس کے شرکاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابۂ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے احترام و تقدس کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز اور تفرقہ انگیز بیانات اسلامی تعلیمات، امت کے اتحاد اور کشمیر کی دیرینہ روادارانہ روایات کے منافی ہیں۔
اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد، مکالمہ اور باہمی اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مشاورتی نشستوں اور مشترکہ سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ شرکاء نے معاشرے کی فلاح و بہبود، ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ متحدہ مجلس علماء کے بینر تلے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو محرم الحرام کے دوران صورتحال پر نظر رکھے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا بروقت اور مؤثر تدارک کرے۔
اجلاس کے اختتام پر آغا سید مجتبیٰ نے متحدہ مجلس علماء اور اس کی قیادت، بالخصوص میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق، کی جانب سے بین المسالک ہم آہنگی، عوامی رہنمائی اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کی روحانی و ثقافتی روایت میں شامل رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کی اقدار کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ